Posts

گدھا بن گیا شیر -

Image
گدھا بن گیا شیر - بے وقوف جیسا بھی بھیس پہنے اس کے بولنے سے ہی اس کی بے وقوفی کا پتہ چل جاتا ہے ایک دن ایک گدھا راستے میں چلا جا رہا تھا کہ اسے ایک کپڑے کا گٹھر نظر آیا۔اس نے جب یہ گٹھر کھولا تو حیران رہ گیا اس میں شیر کی کھال پڑی ہوئی تھی۔گدھا بہت خوش ہوا اور اس نے شیر کی کھال اوڑھ لی۔ ”آہا!یہ تو بہت اچھی ہے۔اب میں کیسا لگ رہا ہوں۔یہ دیکھنے کے لئے گدھے نے قریبی تالاب میں جا کر اپنا عکس دیکھا“۔ ”اب میں شیر بن گیا ہوں اب میں ان سب کو مزا چکھاؤں گا جو میرا مذاق اُڑاتے تھے“۔ گدھا بھاری قدموں سے جنگل میں داخل ہوا۔ پہلا جانور جس نے شیر یعنی گدھے کو دیکھا وہ تھا ہرن ”ش ش شیر․․․“ ہرن کانپتے ہوئے بولا اور خوفزدہ ہو کر درختوں کی طرف بھاگ گیا۔ ”کتنا مزا آیا“۔گدھے نے اپنی کامیابی پر خوش ہو کر کہا۔ اتنے میں دیکھا کہ بی لومڑی آ رہی ہیں۔ اس نے جو شیر کو دیکھا تو خوف سے کانپنے لگیں۔ ”شیر صاحب آپ تو بہت معزز اور بڑے مرتبے والے اور اچھے جانور ہیں آپ مجھے نہ کھائیں“۔ لومڑی گدھے کے قدموں میں گر کر اس سے زندگی کی بھیک مانگنے لگی۔ جلد ہی پورے جنگل میں ہلچل مچ گئی کہ جنگل میں شیر آ گیا ہے․․․ بندر خوف زدہ...

جب نیوٹن پیدا ہوا تو اس کی ماں نے اپنے مرحوم شوہر کی یاد میں نومولود بچے کا نام بھی آئزک نیوٹن رکھا

Image
  آئزک نیوٹن - جب نیوٹن پیدا ہوا تو اس کی ماں نے اپنے مرحوم شوہر کی یاد میں نومولود بچے کا نام بھی آئزک نیوٹن رکھا ہمیشہ کی طرح عشاء کی نماز کے بعد سارے بچے ابو کے گرد جمع ہو گئے اور کہا،”ابو!آپ آج بالکل نئی کہانی سنائیں“،ابو نے کہا،”ٹھیک ہے،آج میں بالکل نئی کہانی سناؤں گا“۔ابو نے کہانی شروع کی۔”بچو!4 جنوری 1643ء انگلستان کے شہر لنکا شائر میں ایک غریب کسان کے گھر ایک کمزور اور بیمار بچہ پیداہوا،پیدائش سے تین مہینے قبل ہی اس کا باپ فوت ہو چکا تھا”اس کے باپ کا نام آئزک نیوٹن تھا“۔ ”جب نیوٹن پیدا ہوا تو اس کی ماں نے اپنے مرحوم شوہر کی یاد میں نومولود بچے کا نام بھی آئزک نیوٹن رکھا،جب نیوٹن تین برس کا ہوا تو اس کی ماں نے دوسری شادی کر لی،”نیوٹن کا سوتیلا باپ اس کو بالکل بھی پسند نہیں کرتا تھا“۔اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے اس کی ماں نے نیوٹن کو دادا دادی کے گھر رہنے بھیج دیا اور خود اپنے شوہر کے ساتھ رہنے لگی“۔ بیماری کے باعث نیوٹن کافی غصیلا ہو گیا تھا جس کی وجہ سے اس کا کوئی دوست نہیں تھا۔وہ اکیلا بیٹھ کر چاند ستاروں کے بارے میں سوچتا رہتا۔نیوٹن خرابی صحت کی وجہ سے بارہ برس کی عمر میں ا...

انوکھی دریافت پروفیسر محمد قاور جابر ملک کے مشہور اور مایہ ناز ماہر

  انوکھی دریافت  پروفیسر محمد قاور جابر ملک کے مشہور اور مایہ ناز ماہر ارضیات تھے۔ پورا ملک ان کی تلاش کی ہوئی چیزوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ کھدائی کے دوران انھوں نے بہت سی چیزیں دریافت کی تھیں۔ : پروفیسر محمد قاور جابر ملک کے مشہور اور مایہ ناز ماہر ارضیات تھے۔ پورا ملک ان کی تلاش کی ہوئی چیزوں کی وجہ سے مشہور تھا۔ کھدائی کے دوران انھوں نے بہت سی چیزیں دریافت کی تھیں۔ انھوں نے اپنے کارکنوں کے ساتھ ملک کے دور دراز علاقے ” جاڑجا“ میں کھدائی کاکام شروع کیا تھا۔ کچھ دن تو انھیں کچھ نہ ملا۔ پھر اچانک ایک دن ان کے ایک ساتھی نے گول سی ڈبا نماکوئی چیز ان کے سامنے لاکر رکھ دی بظاہر تو یہ پتھر کا لگ رہاتھا، لیکن لوہے جیسے کسی دھات کابنا ہوا تھا۔ اس کارکن نے بتایا: سر! ہم نے مشینوں سے چیک کیاہے۔ اس میں کچھ لوہے کی آمیزش معلوم ہوتی ہے اگر یہ یہاں کے قدیم باشندوں کی کوئی چیزہوئی تو یہ ہماری اب تک سب سے بڑی دریافت ہوگی۔ اچھا! پھر تو بہت ہی زیادہ اچھا ہے۔ اسے جلدی سے صاف کرو اور ہاں، ذرا احتیاط سے پھر فوراََ مجھے دکھاؤ۔ وقار جابرگول سے ڈبے کو اُلٹ پلٹ کر دیکھتے ہوئے بولے۔ ٹھیک ہے سر! اس نے کہا...

چوہے کی چوری - آپ کے کمرے میں ایک چوہے کا آنا جانا ہے لہٰذا ایک بلی بھی پال لیں

Image
  چوہے کی چوری -  آپ کے کمرے میں ایک چوہے کا آنا جانا ہے لہٰذا ایک بلی بھی پال لیں مرزا انور بڑے سرکاری افسر تھے،لیکن نیکی کے کاموں میں حصہ لینا اور سخاوت ان کی خصوصیت تھی۔ایک دن وہ گھر والوں کے ساتھ شادی کی تقریب میں شریک تھے۔شادی ہال میں ان کی بیوی کو یاد آیا کہ وہ تو جلدی جلدی میں سونے کا ہار سنگھار میز پر ہی بھول آئی ہیں۔انھوں نے فوراً مرزا صاحب سے کہا تو انھوں نے بے فکری کے انداز میں جواب دیا۔ سارے کمروں کو اپنے ہاتھ سے بند کرکے آیا ہوں اور بڑے گیٹ پر چوکیدار موجود ہے۔بے فکر ہو جاؤ،تمہارا ہار میز پر ہی ہو گا۔وہاں سے کہیں نہیں جائے گا۔شادی کی تقریب کے بعد جب گھر پہنچے تو سنگھار میز پر ہار موجود نہیں تھا۔یہ دیکھ کر دونوں پریشان ہو گئے اور سارا کمرہ چھان مارا،لیکن ہار نہیں ملا۔ چوکیدار سے معلوم کیا کہ ہمارے بعد کوئی آیا تو نہیں تھا۔ چوکیدار نے جواب دیا:”کوئی نہیں آیا تھا صاحب․․․!“ انور صاحب کو چوکیدار پر پورا بھروسا تھا،کیونکہ یہ ان کا پرانا ملازم تھا۔ کچھ سوچ کر علاقے کے تھانے دار کو اطلاع دے دی گئی۔رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی۔پولیس کی گاڑی سائرن بجاتی کچھ دیر میں پہنچ گئ...

حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں

  حساب جوں کا توں کنبہ ڈوبا کیوں“ مطلب یہ کہ تھوڑا علم خطرناک ہوتا ہے۔یہ کہاوت اس وقت بولی جاتی ہے جب کوئی شخص  تھوڑا سا علم حاصل کر کے خود کو بہت قابل سمجھے اور جب اس علم پر عمل کرنے بیٹھے تو اپنی بے وقوفی کی وجہ سے نقصان اٹھائے، مگر نقصان کی وجہ اس کی سمجھ میں نہ آئے۔ اس کی کہانی یہ ہے کہ ایک صاحب زادے نے حساب کا علم سیکھنا شروع کیا ایک روز استاد نے اوسط کا قاعدہ بتایا۔انہوں نے  اسے رٹ لیا۔شام کو گھر گئے تو گھر والے دریا پار جانے کو تیار بیٹھے تھے۔یہ بھی ساتھ ہو لیے۔جب کشتی والوں سے انہیں معلوم ہوا کہ دریا کناروں سے دو دو فٹ گہرا ہے اور درمیان میں آٹھ فٹ تو فوراً دونوں کناروں کی گہرائی یعنی دو اور دو چار فٹ اور درمیان کی گہرائی آٹھ فٹ جمع کر کے کل بارہ فٹ کو تین پر  تقسیم کر دیا۔ جواب آیا ”اوسط گہرائی چار فٹ“۔اس قاعدے سے تو دریا کی گہرائی بالکل کم تھی۔ اس لئے انہوں نے خوشی خوشی گھر والوں کو بتایا کہ کشتی کا کرایہ بچ جائے گا۔بغیر کشتی کے بھی دریا پار کیا جا سکتا ہے۔میں نے حساب لگا کر دیکھا ہے۔اس دریا کی اوسط گہرائی چار فٹ ہے۔یہ سن کر گھر والے دریا پار کرنے کو تیار ہ...

ایک بہت بڑے کارخانے میں تقریب جاری تھی۔ تقریب کے آخر میں مالک نے

Image
  ایک بہت بڑے کارخانے میں تقریب جاری تھی۔ تقریب کے آخر میں مالک نے تقریر کرتے ہوئے کہا۔ ”ہمارے کارخانے میں نئے منیجر کا تقرر ہوا ہے‘ سب جانتے ہیں کہ ہمارا کارخانہ دیانت اور محنت کا زبردست صلہ دیتا ہے‘ اگر کسی کی کارکردگی غیر معمولی ہے تو خلاف معمول طریقے سے ترقی کر سکتا ہے۔ ہمارے نئے منیجر کو دیکھیں۔ یہ صرف چھ ماہ پہلے ہماری ٹیم میں شامل ہوئے تھے لیکن انہوں نے اپنی لیاقت و محنت سے ثابت کر دیا کہ وہ اعلیٰ مرتبے کے اہل ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ان سے کم لائق سینئرز پیچھے رہ گئے ہیں اور یہ بلند عہدے تک پہنچ گئے ہیں۔“ جب مالک کار خانہ تقریر کے چکا تھا تو نیا منیجر اپنی جگہ سے اٹھا اور اس نے پر جوش انداز میں مالک کار خانہ سے ہاتھ ملایا اور کہنے لگا۔ ”ڈیڈی! بہت بہت شکریہ۔“